آسودہ حال

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - (دینوی حاجات سے) فارغ و مطمئن، خوش وقت یا خوش حال، نچنت۔ "یہاں کامرانی سود و زیاں کی کاوش میں نہیں ہے بلکہ سودوزیاں سے آسودہ حال رہنے میں ہے۔"      ( ١٩٤٢ء، غبار خاطر، ٤١ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'آسودن' سے مشتق صیغہ حالیہ تمام 'آسودہ' کے ساتھ عربی زبان سے ماخوذ اسم 'حال' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٠٢ء کو "خرد افروز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (دینوی حاجات سے) فارغ و مطمئن، خوش وقت یا خوش حال، نچنت۔ "یہاں کامرانی سود و زیاں کی کاوش میں نہیں ہے بلکہ سودوزیاں سے آسودہ حال رہنے میں ہے۔"      ( ١٩٤٢ء، غبار خاطر، ٤١ )